احتقار
قسم کلام: اسم حاصل مصدر
معنی
١ - حقارت، تحقیر، حقیر جاننا۔ کوئی ہے دل سے فدا تم پہ اس زمانے میں یہ امر مستحق چشم احتقار نہیں ( ١٩٢٢ء، ز،خ،ش،فردوس تخیل، ٢٨٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٩٢٢ء کو "فردوس تخیل" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: حقر
جنس: مذکر