احتیاج

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - حاجت، ضرورت۔  حباب مے کے لیے احتیاج موج کہاں یہ خیمہ نصب ہوا بے طناب شیشے میں    ( ١٩٤٠ء، بے خود موہانی، کلیات، ٤٦ ) ٢ - (کسی کی) محتاجی، حاجت مندی، محتاج ہونا۔  آخر کو شیخ شہر بھی جاسوس بن گیا یا رب تری پناہ! بری شے ہے احتیاج    ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٧٣ ) ٣ - جو بات ضروری ہو، ضروری۔ "لیکن دیکھنا جہیز کا کیا احتیاج، کیونکہ ہمارا بادشاہ یہ ناتا کچھ مال کے لیے نہیں کرتا۔"      ( ١٨٢٤ء، سیر عشرت، ١٤٥ ) ٤ - پیشاب یا پاخانے کا آنا۔ "ان عورتوں میں سے ایک عورت کو رفع احتیاج کی ضرورت ہوئی۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال العتل العین اجوف واوی سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء کو قلی قطب شاہ کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - جو بات ضروری ہو، ضروری۔ "لیکن دیکھنا جہیز کا کیا احتیاج، کیونکہ ہمارا بادشاہ یہ ناتا کچھ مال کے لیے نہیں کرتا۔"      ( ١٨٢٤ء، سیر عشرت، ١٤٥ ) ٤ - پیشاب یا پاخانے کا آنا۔ "ان عورتوں میں سے ایک عورت کو رفع احتیاج کی ضرورت ہوئی۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٩:١ )

اصل لفظ: حوج
جنس: مؤنث