احراز

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - (کسی شے کو) ذخیرہ، اندوختہ یا جمع کرنے یا محفوظ رکھنے کا عمل، (منفعت کے طور پر) حصول، حاصل یا جمع کرنا۔ "مال وہ ہے جس پر قبضہ ہو سکے اور اس کا احراز ممکن ہو۔"      ( ١٩٣٣ء، جنایات برجائداد، ٩١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔اردو میں ١٨٥١ء کو "ترجمہ عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی شے کو) ذخیرہ، اندوختہ یا جمع کرنے یا محفوظ رکھنے کا عمل، (منفعت کے طور پر) حصول، حاصل یا جمع کرنا۔ "مال وہ ہے جس پر قبضہ ہو سکے اور اس کا احراز ممکن ہو۔"      ( ١٩٣٣ء، جنایات برجائداد، ٩١ )

اصل لفظ: حرز
جنس: مذکر