احسان
معنی
١ - (کسی کے ساتھ) نیکی کا عمل، اچھا سلوک، مہربانی کا برتاؤ۔ "غربا فقرا پر احسان بہت سے کیے۔" ( ١٨٠٥ء، آرائش محفل، افسوس، ٢٨٩ ) ٢ - اچھے سلوک کا بار (جسے سلوک کرنے والا یا وہ شخص جس کے ساتھ سلوک کیا گیا، محسوس کرے)۔ "اردو شاعری پر ان کا بڑا احسان ہے۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٩٩ ) ٣ - نیکی، عمل خیر۔ "اس نے پھر دریافت کیا کہ 'احسان کس کو کہتے ہیں' ارشاد ہوا کہ خدا کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٠٤:٢ ) ٤ - (اچھا سلوک کیے جانے پر) شکریہ، شکر، ممنونیت کا اعتراف۔ محتاج نہیں قافلہ آواز درا کا سیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کا ( ١٨٦١ء، دیوان ناظم (نواب یوسف علی)، ١ ) ٥ - [ تصوف ] نور بصیرت سے حق کا مشاہدہ، صفات کے پردے میں ذات باری تعالٰی کا دیدار، مشاہدہ صفائیہ جس کو عین الیقین کہتے ہیں۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 26)
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء، کو قلی قطب شاہ کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (کسی کے ساتھ) نیکی کا عمل، اچھا سلوک، مہربانی کا برتاؤ۔ "غربا فقرا پر احسان بہت سے کیے۔" ( ١٨٠٥ء، آرائش محفل، افسوس، ٢٨٩ ) ٢ - اچھے سلوک کا بار (جسے سلوک کرنے والا یا وہ شخص جس کے ساتھ سلوک کیا گیا، محسوس کرے)۔ "اردو شاعری پر ان کا بڑا احسان ہے۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٩٩ ) ٣ - نیکی، عمل خیر۔ "اس نے پھر دریافت کیا کہ 'احسان کس کو کہتے ہیں' ارشاد ہوا کہ خدا کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٠٤:٢ )