احسنت

قسم کلام: حرف فجائیہ

معنی

١ - واہ واہ، بہت خوب، سبحان اللہ کیا کہنا، آفرین، شاباش، مرحبا۔ "مجمع کی طرف سے ایک شور احسنت و مرحبا بلند ہوا۔"      ( اودھ پنچ، لکھن، ١٣، ١٦، ٦ ) ١ - [ مجازا ]  حسن و خوبی (جو قابل داد ہو)۔ "باعتبار احسنت اور خوبی کے ہر خلق، خلق حسنہ ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٥،٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے اسم تفضیل 'اَحْسَن' کے ساتھ ت بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٦٣٩ء کو غواصی کی "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - واہ واہ، بہت خوب، سبحان اللہ کیا کہنا، آفرین، شاباش، مرحبا۔ "مجمع کی طرف سے ایک شور احسنت و مرحبا بلند ہوا۔"      ( اودھ پنچ، لکھن، ١٣، ١٦، ٦ ) ١ - [ مجازا ]  حسن و خوبی (جو قابل داد ہو)۔ "باعتبار احسنت اور خوبی کے ہر خلق، خلق حسنہ ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٥،٥ )

اصل لفظ: حسن