احصا

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - (چیز یا مفہوم کے) کل جزئیات اور متعلقات کو (بیان وغیرہ میں) گھیر لینے کا عمل، بیان، احاطہ۔  خدا نے جو فضل اس کو بخشا بھلا ہو کس طرح اس کا احصا کسی طرح سے نہیں ممکن شمار جو دو عطا و احساں      ( ١٩٣٣ء، نظم طباطبائی، ٢١٤ ) ٢ - چیز یا مفہوم کے کل اجزا و متعلقات کو ایک ایک کر کے گنانے اور بیان کرنے کا عمل، شمار، گنتی۔ "یہاں کی آبادی بموجب احصاء . اسی ہزار نفر اور آٹھ ہزار مکان کہی جاتی ہے۔"      ( ١٩١٢ء، روزنامچہ سیاحت، غلام الثقلین، ٨٤ ) ٣ - [ ریاضی ]  ہندسے کے وہ اصول جن سے اہتزازی یا رقاصی حرکت نیز وقت کے چھوٹے سے چھوٹے وقفے کا حساب لگایا جاتا ہے، اس طرح حساب لگانے کا عمل، تفاضل و تکامل۔ "سیاروں کی حرکت کے سلسلے میں ریاضی کی ایک نئی شاخ ایجاد ہوئی جو احصا کہلاتی ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، داستان ریاضی، ٢٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب افعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ عربی میں اصل لفظ 'احصاء' ہے اردو میں 'آخری 'ء' کی آواز نہ ہونے کی وجہ سے اس کو محذوف کر دیا گیا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٤٦ء کو "تذکرہ اہل دہلی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - چیز یا مفہوم کے کل اجزا و متعلقات کو ایک ایک کر کے گنانے اور بیان کرنے کا عمل، شمار، گنتی۔ "یہاں کی آبادی بموجب احصاء . اسی ہزار نفر اور آٹھ ہزار مکان کہی جاتی ہے۔"      ( ١٩١٢ء، روزنامچہ سیاحت، غلام الثقلین، ٨٤ ) ٣ - [ ریاضی ]  ہندسے کے وہ اصول جن سے اہتزازی یا رقاصی حرکت نیز وقت کے چھوٹے سے چھوٹے وقفے کا حساب لگایا جاتا ہے، اس طرح حساب لگانے کا عمل، تفاضل و تکامل۔ "سیاروں کی حرکت کے سلسلے میں ریاضی کی ایک نئی شاخ ایجاد ہوئی جو احصا کہلاتی ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، داستان ریاضی، ٢٨ )

اصل لفظ: حصی
جنس: مذکر