احصار

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - منحصر یا محدود و محصور کرنے کا عمل، حد بندی، حصر کرنا۔ "تناسبات کی مختلف صورتیں ہیں اور ان صور کا احصار استقرائی اصول کے تابع ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٣١١ ) ٢ - [ فقہ ]  وہ رکاوٹ جس کی وجہ سے عازم حج یا محرم سفر ملتوی کر دے (جیسے مرض، دشمن وغیرہ) "جب احصار اس کا مٹ جاوے اور ممکن ہو . حج کا پانا تو جاوے۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ٢٣٦:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٨٦٧ء کو "نورالہدایہ" کے ترجمے میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - منحصر یا محدود و محصور کرنے کا عمل، حد بندی، حصر کرنا۔ "تناسبات کی مختلف صورتیں ہیں اور ان صور کا احصار استقرائی اصول کے تابع ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٣١١ ) ٢ - [ فقہ ]  وہ رکاوٹ جس کی وجہ سے عازم حج یا محرم سفر ملتوی کر دے (جیسے مرض، دشمن وغیرہ) "جب احصار اس کا مٹ جاوے اور ممکن ہو . حج کا پانا تو جاوے۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ٢٣٦:١ )

اصل لفظ: حصر
جنس: مذکر