احمق

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس میں بات کو سمجھنے کی صلاحیت کم ہو یا نہ ہو، بیوقوف، ناسمجھ۔ (مرد یا عورت)۔ "اگر میں اس لفظ کو ان معنوں میں استعمال کروں جن میں وہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا تو میں یقیناً احمق ہوں گا۔"      ( ١٩٦٣ء، اصول اخلاقیات (ترجمہ)، ٣٩ ) ٢ - کلمہ زجرو توبیخ، مترادف : جاہل، الو، گدھا، پاگل، نالائق وغیرہ  ترا ہی منہ پھوڑنے کو احمق ملا دیا تجھ میں کھوٹ ہم نے غرور تیرا ہی توڑنے کو چلائے کاغذ کے نوٹ ہم نے      ( ١٩١٠ء، جذبات نادر، ٢٢٥:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب سے اسم تفضیل ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔"

مثالیں

١ - جس میں بات کو سمجھنے کی صلاحیت کم ہو یا نہ ہو، بیوقوف، ناسمجھ۔ (مرد یا عورت)۔ "اگر میں اس لفظ کو ان معنوں میں استعمال کروں جن میں وہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا تو میں یقیناً احمق ہوں گا۔"      ( ١٩٦٣ء، اصول اخلاقیات (ترجمہ)، ٣٩ )

اصل لفظ: حمق