احکم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بڑا حاکم، سب سے بڑا حکمراں۔  کب نہ تھا وہ کب خدائے احکم و اعدل نہیں آخر آخر نہیں یا اول اول نہیں ٢ - بہت زیادہ مستحکم۔ 'کوئی مسئلہ اس مسئلے کی حقیقت سے اقویٰ اور اعلٰی اور اتم اور احکم نہیں ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، فصوص الحکم (ترجمہ)، ١٠٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل 'حاکم' کی تفضیل ہے۔ اردو میں ١٨٧٠ء کو "دیوان اسیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بہت زیادہ مستحکم۔ 'کوئی مسئلہ اس مسئلے کی حقیقت سے اقویٰ اور اعلٰی اور اتم اور احکم نہیں ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، فصوص الحکم (ترجمہ)، ١٠٧ )

اصل لفظ: حکم