اخبث

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خباثت اور شرارت سے بھرا ہوا، حد کا خبیث۔ "جو آپ کی صاحبزادی کا ہاتھ پکڑنا چاہتا ہے سو اخبثوں کا ایک اخبث ہے۔"      ( ١٨٩٨ء، روز المبرٹ، ١٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق ہے، ثلاثی مجرد کے باب سے اسم تفضیل ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٩٢ء کو "عمر و عیار کی سوانح عمری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خباثت اور شرارت سے بھرا ہوا، حد کا خبیث۔ "جو آپ کی صاحبزادی کا ہاتھ پکڑنا چاہتا ہے سو اخبثوں کا ایک اخبث ہے۔"      ( ١٨٩٨ء، روز المبرٹ، ١٣٧ )

اصل لفظ: خبث