اختتام

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - تمام ہونے کا عمل، خاتمہ، ختم، آخر۔ "افسوس ہے کہ وہ اس کے اختتام سے قبل راہی ملک بقا ہو گئے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٤٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٠ء کو "بہرام گور اور حسن بانو" بحوالہ "تاریخ زبان اردو" مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تمام ہونے کا عمل، خاتمہ، ختم، آخر۔ "افسوس ہے کہ وہ اس کے اختتام سے قبل راہی ملک بقا ہو گئے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٤٣ )

اصل لفظ: ختم
جنس: مذکر