اختیاری

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - جو امکان میں ہو، بس کا، قابو کا، جبری یا اجباری کی ضد۔  خدا نے حسن دے کر کر دیا سب پر تجھے غالب نہیں کچھ اختیاری امر یوں شہہ زور ہو جانا      ( ١٨٠٥ء، دیوان بیختہ، رنگین، ٣٦ ) ٢ - جو اپنے ارادے سے انجام دیا جائے، ارادی، اضطراری کی ضد۔ "انسان جو نیکی یا بدی کرتا ہے تو یہ اس کا اختیاری فعل ہے یا اضطراری?"      ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٤٧:١ ) ٣ - مرضی یا پسند پر منحصر، غیر لازمی (انگریزی) Optional۔ "فارسی زبان اختیاری حیثیت سے براے نام کچھ باقی ہے۔"      ( ١٩٣٠ء،اردو گلستان(مقدمہ)، ٤، ٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق ہے۔ عربی کے لفظ 'اِختیار' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگائی گئی ہے۔ قدما نے اس کو بطور اسم بھی استعمال کیا۔ سب سے پہلے ١٥٨٢ء کو "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - جو اپنے ارادے سے انجام دیا جائے، ارادی، اضطراری کی ضد۔ "انسان جو نیکی یا بدی کرتا ہے تو یہ اس کا اختیاری فعل ہے یا اضطراری?"      ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٤٧:١ ) ٣ - مرضی یا پسند پر منحصر، غیر لازمی (انگریزی) Optional۔ "فارسی زبان اختیاری حیثیت سے براے نام کچھ باقی ہے۔"      ( ١٩٣٠ء،اردو گلستان(مقدمہ)، ٤، ٥ )

اصل لفظ: اِخْتِیار