ادبیات

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - اقسام نظم و نثر، لٹریچر۔ "نہ معلوم کس اثر نے اس کے قلم سے اس برے مذاق کی تعریف کروائی جو نہ ملک کے واسطے مفید ہے نہ ادبیات کے لیے۔"      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩:٢،١٠ ) ٢ - وہ مسائل یا علوم جن کا ادب سے تعلق ہے، ادب کے مبادی اور متعلقات۔ "عشاق علم میں بھی کسی کو ادبیات سے لگاؤ ہے، کسی کو عقلیات کا چسکا ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٤٤:٣ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'اَدَب' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ نسبت اور 'ات' بطور لاحقہ جمع لگایا گیا ہے۔ ١٩٣٣ء کو "سیرۃ النبی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اقسام نظم و نثر، لٹریچر۔ "نہ معلوم کس اثر نے اس کے قلم سے اس برے مذاق کی تعریف کروائی جو نہ ملک کے واسطے مفید ہے نہ ادبیات کے لیے۔"      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩:٢،١٠ ) ٢ - وہ مسائل یا علوم جن کا ادب سے تعلق ہے، ادب کے مبادی اور متعلقات۔ "عشاق علم میں بھی کسی کو ادبیات سے لگاؤ ہے، کسی کو عقلیات کا چسکا ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٤٤:٣ )

اصل لفظ: ادب