ادرک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک زردی مائل زمین کے اندر پھیلنے والی جڑ جس کا ٹھوس ریشے دار گودا مزے میں چرپرا ہوتا اور عموماً مسالے میں استعمال کیا جاتا ہے، (سکھا لیا جائے تو اسی کو سونٹھ کہتے ہیں)۔ "نمک دھنیا ادرک لہسن بقدر ضرورت۔"      ( ١٩٤٧ء، شاہی دسترخوان، ٣٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اسم جامد 'اردرک' ہے جس سے یہ ماخوذ ہے۔ اردو میں 'ادرک' استعمال ہوا۔ سب سے پہلے ١٥٦٥ء میں "جواہر اسراراللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک زردی مائل زمین کے اندر پھیلنے والی جڑ جس کا ٹھوس ریشے دار گودا مزے میں چرپرا ہوتا اور عموماً مسالے میں استعمال کیا جاتا ہے، (سکھا لیا جائے تو اسی کو سونٹھ کہتے ہیں)۔ "نمک دھنیا ادرک لہسن بقدر ضرورت۔"      ( ١٩٤٧ء، شاہی دسترخوان، ٣٣ )

جنس: مؤنث