ادغام

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - ایک جنس یا قبیل کی دو یا زیادہ چیزوں کو باہم ملا دینا، خلط ملط کرنا۔ "جب تک شوہر کا ادغام اس میں نہ ہو تب تک تکمیل ناممکن۔"      ( ١٩٢٠ء، لخت جگر، ٢٦٣:١ ) ٢ - [ صرف ]  ہم جنس یا قریب المخرج دو حرفوں کو ایک کرنا اور ملا کر پڑھنا جیسے : ضرر سے ضرّ۔ "جہاں قصر ہو وہاں قصر اور جہاں ادغام ہو وہاں ادغام لازم پکڑے۔"      ( ١٨٣٠ء، تنبیہہ الغافلین، ٢٥٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٣٠ء کو "تنبیہہ الغافلین" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - ایک جنس یا قبیل کی دو یا زیادہ چیزوں کو باہم ملا دینا، خلط ملط کرنا۔ "جب تک شوہر کا ادغام اس میں نہ ہو تب تک تکمیل ناممکن۔"      ( ١٩٢٠ء، لخت جگر، ٢٦٣:١ ) ٢ - [ صرف ]  ہم جنس یا قریب المخرج دو حرفوں کو ایک کرنا اور ملا کر پڑھنا جیسے : ضرر سے ضرّ۔ "جہاں قصر ہو وہاں قصر اور جہاں ادغام ہو وہاں ادغام لازم پکڑے۔"      ( ١٨٣٠ء، تنبیہہ الغافلین، ٢٥٠ )

اصل لفظ: دغم
جنس: مذکر