ادھار
معنی
١ - عارضی طور پر، مانگے کا، مستعار۔ وہ چھینتا نہیں ہے کبھی دے کے ایک بار شایاں اسے نہیں ہے کہ بندوں کو دے ادھار ( ١٨٨٨ء، مجموعہ نظم بے نظیر، ١٧٣ ) ١ - آئندہ ادائی کے وعدے پر لین دین، اچاپت، قرض، وام۔ "میں نے ادھار کا کام ہی نہیں رکھا۔" ( ١٨٧٤ء، مجالس النساء، ٧٩:١ ) ٢ - وہ شے خصوصاً رقم جو وصول طلب اور واجب الادا ہو، قرضہ، دین۔ صرف ساقی کا قرض دار ہوں میں اور مجھ پر ادھار کس کا ہے ( ١٩٠٣ء، سفینہ نوح، ١٨٨ ) ٣ - آیندہ حاصل یا وصول ہونے والی چیز یا عمل، موعود، متوقع، آیندہ ہونے یا کیا جانے والا حساب کتاب۔ ساقی ہے مغنی ہے چمن ہے مے ہے اس نقد پہ سو ادھار قربان کر دے ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٢٦٢ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے اسم جامد ہے، سنسکرت میں 'اُدّھار' مستعمل ہے لیکن اردو میں بلاتشدد مستعمل ہے۔ سب سے پہلے "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آئندہ ادائی کے وعدے پر لین دین، اچاپت، قرض، وام۔ "میں نے ادھار کا کام ہی نہیں رکھا۔" ( ١٨٧٤ء، مجالس النساء، ٧٩:١ )