ادھر
معنی
١ - جوں ہی، جیسے ہی (بیش تر ادھر کے بالمقابل) ادھر خط پڑھا اُدھر جواب لکھ کر ڈاک میں بھیجا۔" ( ١٨٦٣ء، خطوط غالب، ) ٢ - مزید برآں، اس کے علاوہ (تنبیہ اور توجہ کی غرض سے)۔ "اب رومیوں کو . ایسے جنگلوں میں سڑر کرنا پڑا جہاں نہ کوئی لیک تھی نہ بیٹا، اِدھر بوجھ بھار . کے ساتھ ہونے سے ان کی دشواریاں اور بھی زیادہ ہو گئیں۔" ( ١٩٢٩ء، تاریخ سلطنت روما، ١٩٨ ) ٣ - ابتدائی درجے میں، اولاً، ایک تو۔ "اِدھر گوئی کھو بیٹھے اور ادھر ڈھڑھ سو روپے تاوان کے بھرے۔" ( ١٩٣٥ء، گئودان، ٣٤٩ ) ١ - اس جگہ، اس مقام میں، یہاں۔ "ادھر اب صاحب لوگ کم آیا کرتے ہیں۔" ٢ - اس طرف، ورے کوٹھی پر، سیڑھیوں میں یا کہ منڈیروں سے ادھر صحن میں ڈھورے میں یا اور کہیں منہ سے پھوٹ ( ١٨١٨ء، انشا، کلیات، ١٩٠ ) ٣ - (متکلم کی نسبت سے) قریب، پاس اے بی اے بی ذرا ادھر آنا دیکھو آیا ہے ایک دیوانا ( ١٨٦٣ء طلسم الفت، ٨١ ) ٤ - ایک جانب (اُدھر یا دوسری جانب کے بالمقابل)۔ "ادھر تو میرا یہ حال اور ادھر یہ معاملہ کہ گھر کا گھر اللہ رکھے گھوڑ دوڑ کا عاشق زار۔" ( ١٩٣٥ء، خانم، ١٩ ) ٥ - میری یا ہماری طرف، میرے یا ہمارے پاس؛ مجھے یا ہمیں۔ یہ عجب جنگ ہے اس دور زمانہ میں رواں اس طرف توپ ادھر ڈھال ہے ایمانوں کی ( ١٩٢٧ء روح رواں، ٧٩ ) ١ - ان دنوں، اس زمانے میں، اس وقت۔ "اِدھر اتنی باتیں جمع ہو گئی ہیں کہ اب ضبط نہیں کر سکتا۔" ( ١٩١٨ء، مکاتیب مہدی، ٢٠ ) ٢ - اب، ابھی، کچھ وقت پہلے، ماضی قریب ہیں۔ "ادھر بھی ایک خط آیا تھا۔" ( ١٩٤٥ء، شاید کہ بہار آئی، ١٩٧ ) ٣ - مقررہ وقت سے پہلے، معینہ ساعت یا مدت سے قبل "بارہ بجے سے ادھر کبھی چھٹکارا ہوا ہی نہیں۔" ( ١٨٩٩ء، رویاے صادقہ، ٧٧ ) ٤ - اتنی دیر میں، اس دوران میں۔ "وہ ہائیں ہائیں کرتے رہے اور ادھر سب پیالے اور قابیں شہید ہو گئیں۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٠٥ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے اسم جامد ہے، سنسکرت میں اس کے مترادف لفظ 'اِتَس' مستعمل ہے۔ 'اِدَھر' 'اِتَس' سے ہی ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے حسن شوقی کے دیوان میں ١٥٦٤ء کو مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جوں ہی، جیسے ہی (بیش تر ادھر کے بالمقابل) ادھر خط پڑھا اُدھر جواب لکھ کر ڈاک میں بھیجا۔" ( ١٨٦٣ء، خطوط غالب، ) ٢ - مزید برآں، اس کے علاوہ (تنبیہ اور توجہ کی غرض سے)۔ "اب رومیوں کو . ایسے جنگلوں میں سڑر کرنا پڑا جہاں نہ کوئی لیک تھی نہ بیٹا، اِدھر بوجھ بھار . کے ساتھ ہونے سے ان کی دشواریاں اور بھی زیادہ ہو گئیں۔" ( ١٩٢٩ء، تاریخ سلطنت روما، ١٩٨ ) ٣ - ابتدائی درجے میں، اولاً، ایک تو۔ "اِدھر گوئی کھو بیٹھے اور ادھر ڈھڑھ سو روپے تاوان کے بھرے۔" ( ١٩٣٥ء، گئودان، ٣٤٩ ) ١ - اس جگہ، اس مقام میں، یہاں۔ "ادھر اب صاحب لوگ کم آیا کرتے ہیں۔" ٤ - ایک جانب (اُدھر یا دوسری جانب کے بالمقابل)۔ "ادھر تو میرا یہ حال اور ادھر یہ معاملہ کہ گھر کا گھر اللہ رکھے گھوڑ دوڑ کا عاشق زار۔" ( ١٩٣٥ء، خانم، ١٩ ) ١ - ان دنوں، اس زمانے میں، اس وقت۔ "اِدھر اتنی باتیں جمع ہو گئی ہیں کہ اب ضبط نہیں کر سکتا۔" ( ١٩١٨ء، مکاتیب مہدی، ٢٠ ) ٢ - اب، ابھی، کچھ وقت پہلے، ماضی قریب ہیں۔ "ادھر بھی ایک خط آیا تھا۔" ( ١٩٤٥ء، شاید کہ بہار آئی، ١٩٧ ) ٣ - مقررہ وقت سے پہلے، معینہ ساعت یا مدت سے قبل "بارہ بجے سے ادھر کبھی چھٹکارا ہوا ہی نہیں۔" ( ١٨٩٩ء، رویاے صادقہ، ٧٧ ) ٤ - اتنی دیر میں، اس دوران میں۔ "وہ ہائیں ہائیں کرتے رہے اور ادھر سب پیالے اور قابیں شہید ہو گئیں۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٠٥ )