ادھیڑ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس کی جوانی ختم اور بڑھاپا آغاز ہو، میانہ سال، نہ بوڑا نوجوان۔ "دونوں ساس بہوؤں کو دیکھو وہ بڑھیا یہ ادھیڑ۔"      ( ١٩٢٠ء، لخت جگر، ٢٩٨:١ ) ٢ - جوانی اور بڑھاپے کے بیچ کا (سن یا عمر) "آپ نے ان کی ادھیڑ سن بیوہ سے عقد کی ٹھانی"      ( ١٩٣١ء، انشائے ماجد، ٢٢:٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے دو الفاظ 'ادھ' اور 'وردھ' کے مرکب سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٢٥ء کو "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں استعمال ہوا۔

مثالیں

١ - جس کی جوانی ختم اور بڑھاپا آغاز ہو، میانہ سال، نہ بوڑا نوجوان۔ "دونوں ساس بہوؤں کو دیکھو وہ بڑھیا یہ ادھیڑ۔"      ( ١٩٢٠ء، لخت جگر، ٢٩٨:١ ) ٢ - جوانی اور بڑھاپے کے بیچ کا (سن یا عمر) "آپ نے ان کی ادھیڑ سن بیوہ سے عقد کی ٹھانی"      ( ١٩٣١ء، انشائے ماجد، ٢٢:٢ )