ادھیڑنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - بخیے یا سیون کو کھولنا، ٹانکے توڑنا۔  قدم قدم پہ مراہاتھ بھی چلا کرتا ادھیڑ ادھیڑ کے رخم جگر سیا کرتا      ( ١٩١٨ء، سحر، سراج میر خان، بیاض سحر، ٦٨ ) ٢ - سطح کا بالائی پرت اتارنا یا اکھاڑنا۔ "میں نے بھی پیاز پیش کی کہ چھلکے ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔"    ( ١٩٣٠ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٥، ٦:٢١ ) ٣ - (چھت وغیرہ کا) پٹاؤ الگ کرنا، پوشش کھولنا۔  سینہ صد چاک نظر آیا ترے عاشق کا اس کی تربت کے جو ہیں جا کے ادھیڑے پتھر    ( ١٨١٨ء، انشا، کلیات، ٥٣ ) ٥ - بہت مارنا، سزا دینا۔  زلف نے اس کی مار کر کوڑے دل عشاق کو ادھیڑ دیا    ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٤٦ ) ٦ - تباہ حال کرنا، مفلس کر دینا۔ "جس کو بے وارثا اور بے والی سمجھ کر تو اس بے دردی سے ادھیڑ رہا ہے، اس کی آہ خالی نہ جائے گی۔"      ( ١٩٢٥ء، خدائی راج، ٣٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان مہ سے ماخوذ مصدر 'ادھڑنا' سے فعل متعدی بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سطح کا بالائی پرت اتارنا یا اکھاڑنا۔ "میں نے بھی پیاز پیش کی کہ چھلکے ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔"    ( ١٩٣٠ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٥، ٦:٢١ ) ٦ - تباہ حال کرنا، مفلس کر دینا۔ "جس کو بے وارثا اور بے والی سمجھ کر تو اس بے دردی سے ادھیڑ رہا ہے، اس کی آہ خالی نہ جائے گی۔"      ( ١٩٢٥ء، خدائی راج، ٣٣ )