اذن

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - اجازت، رخصت، ممانعت کی ضد۔ "آپ اٹھ کر عرش کے پاس آئیں گے اور اِذن طلب کریں گے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٩٢:٣ ) ٢ - حکم  جب وہ آئے تو پیشتر سب سے میری آنکھوں کو اذن خواب ہوا      ( ١٩٣٦ء، جگر، شعلہ طور، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے قلی قطب شاہ کے دیوان میں ١٦١١ء کو مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اجازت، رخصت، ممانعت کی ضد۔ "آپ اٹھ کر عرش کے پاس آئیں گے اور اِذن طلب کریں گے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٩٢:٣ )

اصل لفظ: اذن
جنس: مذکر