ارادہ

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - (اقدام عمل کا) کا قصد، عزم، نیت "قریب تھا کہ میں خود ہی ارادۂ تقلید کرتا کہ ایک ریلا آیا۔"      ( ١٩١٥ء، پیاری دنیا، ٥ ) ٢ - خواہش، طلب۔  اصحاب یہ چلائے کہ مبارک سوادہ مقبول یہ حسرت تھی مبارک یہ ارادہ      ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ٤١:٢ ) ٣ - مرضی، منشا۔  اونگھتا ہے کبھی نہ سوتا ہے سب ارادے سے اس کے ہوتا ہے      ( ١٩١١ء، کلیات اسماعیل، ٢٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال معتل العین اجوف واوی سے مصدر 'ارادَۃً ' سے 'تائے مربوطہ' 'ہ' میں تبدیل ہو گئی۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٣٢ء، کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (اقدام عمل کا) کا قصد، عزم، نیت "قریب تھا کہ میں خود ہی ارادۂ تقلید کرتا کہ ایک ریلا آیا۔"      ( ١٩١٥ء، پیاری دنیا، ٥ )

جنس: مذکر