ارتحال

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - کوچ، سفر۔ "آنحضرت (صلعم) نے . طائف سے ارتحال فرمایا۔"      ( ١٨٥١ء، ترجمہ عجائب القصص،٥٥٧:٢ ) ٢ - رحلت، وفات، موت۔ "ان کے حادثہ ارتحال کو وہ اصحاب کبھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔"      ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٨١٢ء کو "گل مغفرت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کوچ، سفر۔ "آنحضرت (صلعم) نے . طائف سے ارتحال فرمایا۔"      ( ١٨٥١ء، ترجمہ عجائب القصص،٥٥٧:٢ ) ٢ - رحلت، وفات، موت۔ "ان کے حادثہ ارتحال کو وہ اصحاب کبھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔"      ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ١ )

اصل لفظ: رحل
جنس: مذکر