ارتداد

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - اسلام کے بعد کفر، اسلام سے انحراف، مرتد ہونا۔ "حالت اسلام اور ارتداد دونوں میں جو کسب اس کا ہے اس کے وارثوں کو ملے گا۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ١٤٢:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال از مضاعف سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٦٧ء کو "نورالہدایہ" (ترجمہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اسلام کے بعد کفر، اسلام سے انحراف، مرتد ہونا۔ "حالت اسلام اور ارتداد دونوں میں جو کسب اس کا ہے اس کے وارثوں کو ملے گا۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ (ترجمہ)، ١٤٢:٢ )

اصل لفظ: ردد
جنس: مذکر