ارتسام

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - "کندہ کیے جانے یا ہونے کا عمل، نقش ہونا، تصویر یا عکس اترنا۔ "جب افعال حسیہ میں سے کوئی فعل انجام دیا جاتا ہے تو تصور کا ارتسام ہوتا ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ، ١٨٤:١ ) ٢ - نقش، پرتو (مجازاً) اثر۔ "ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ آیا کوئی ارتسام حقیقی ہے یا کسی حقیقی اور خارجی شے کو ظاہر کرتا ہے۔"      ( ١٩٤٧ء، مقدمہ اخلاقیات (ترجمہ)، ٢١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٥١ء، کو "ترجمہ عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - "کندہ کیے جانے یا ہونے کا عمل، نقش ہونا، تصویر یا عکس اترنا۔ "جب افعال حسیہ میں سے کوئی فعل انجام دیا جاتا ہے تو تصور کا ارتسام ہوتا ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ، ١٨٤:١ ) ٢ - نقش، پرتو (مجازاً) اثر۔ "ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ آیا کوئی ارتسام حقیقی ہے یا کسی حقیقی اور خارجی شے کو ظاہر کرتا ہے۔"      ( ١٩٤٧ء، مقدمہ اخلاقیات (ترجمہ)، ٢١ )

اصل لفظ: رسم
جنس: مذکر