ارتعاش

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - لہر دوڑنے کی کیفیت، لہر، پھریری۔ "میں چونک ضرور پڑا اور میرے دل میں ایک ارتعاش سا ہونے لگا۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٧٨ ) ٢ - رعشہ، کپکپی؛ ایک عصبی بیماری جس میں عضو بے ارادہ حرکت کرتا اور بے اختیار لرزتا اور کانپتا ہے۔ "تمام اعصاب میں . زلزلہ خیز ارتعاش پیدا ہو گیا۔"      ( ١٩٣٣ء، ید قدرت، ٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر ہے جبکہ اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لہر دوڑنے کی کیفیت، لہر، پھریری۔ "میں چونک ضرور پڑا اور میرے دل میں ایک ارتعاش سا ہونے لگا۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٧٨ ) ٢ - رعشہ، کپکپی؛ ایک عصبی بیماری جس میں عضو بے ارادہ حرکت کرتا اور بے اختیار لرزتا اور کانپتا ہے۔ "تمام اعصاب میں . زلزلہ خیز ارتعاش پیدا ہو گیا۔"      ( ١٩٣٣ء، ید قدرت، ٤٠ )

اصل لفظ: رعش
جنس: مذکر