ارتکاب
معنی
١ - کسی کام کا اصدار یا صدور، کوئی کام کرنا، عمل میں لانا (بیشتر برا کے ساتھ)۔ "اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ان مسامحات کے ارتکاب کرنے کے عذروں کی تمہید کا بیان ہو گا۔" ( ١٨٠٥ء، جامع الاخلاق، ٣٧ ) ٢ - شغل، مشغلہ۔ کیسا ہی مے پرست ہو مانند چشم یار مقدور کیا کرے قدح مے کا ارتکاب ( ١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ٣٣٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے، ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو قائم کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی کام کا اصدار یا صدور، کوئی کام کرنا، عمل میں لانا (بیشتر برا کے ساتھ)۔ "اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ان مسامحات کے ارتکاب کرنے کے عذروں کی تمہید کا بیان ہو گا۔" ( ١٨٠٥ء، جامع الاخلاق، ٣٧ )