ارتیاب

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - شک، شبہ۔ "جو پیشگوئی قرآن حکیم کی آیات . درج ہے وہ رمز سے عاری، کنایے سے مبرا اور ارتیاب سے پاک۔"      ( ١٩٢٦ء، غلبہ روم، ٣ ) ٢ - [ کلام ]  موجودات خارجیہ کے وجود میں شک۔ "تشکیک، ارتیاب، عقلیت و لا ادریت کے بادل سب چھٹتے چلے جاتے ہیں۔"      ( ١٩٤٣ء، مضامین عبدالماجد دریابادی، ٢١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٧٢ء کو "ہشت بہشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شک، شبہ۔ "جو پیشگوئی قرآن حکیم کی آیات . درج ہے وہ رمز سے عاری، کنایے سے مبرا اور ارتیاب سے پاک۔"      ( ١٩٢٦ء، غلبہ روم، ٣ ) ٢ - [ کلام ]  موجودات خارجیہ کے وجود میں شک۔ "تشکیک، ارتیاب، عقلیت و لا ادریت کے بادل سب چھٹتے چلے جاتے ہیں۔"      ( ١٩٤٣ء، مضامین عبدالماجد دریابادی، ٢١ )

اصل لفظ: ریب
جنس: مذکر