ارزش

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - قیمت، عوضانہ۔  نہ رہیں جو ہوش ترے بجا، سمجھ اس کو ارزش یک نظر اگر ان کے جلوے پہ مر گیا تو جزاے دید ہوئی ادا      ( ١٩١٧ء، نقوش مانی، ٤٢ ) ٢ - [ مجازا ]  قدر و قیمت، وقعت۔ "قصیدہ و غزل میں صلہ و تحسین بہ اقتضاے بخت قسمت ہے نہ باندازۂ ارزش کلام۔"      ( ١٨٦٣ء، خطوط غالب، ٤٥٣ ) ٣ - فروختگی، بکنا، قیمت لگنا۔  نہیں ہے مشتری جس کا وہ جس نارواہوں میں رہا محتاج ارزش، میں متاع کارواں ہو کر      ( ١٩١١ء، ظہیر، دیوان، ٥٤:٢ )

اشتقاق

اَرْزِیْدَن  اَرْزاں  اَرْزِش

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  قدر و قیمت، وقعت۔ "قصیدہ و غزل میں صلہ و تحسین بہ اقتضاے بخت قسمت ہے نہ باندازۂ ارزش کلام۔"      ( ١٨٦٣ء، خطوط غالب، ٤٥٣ )

اصل لفظ: اَرْزِیْدَن
جنس: مؤنث