ارفع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بلند تر جگہ، مقابلۃ اونچا۔  ارفع ہے انبیا سے مراتب کا ان کے بام اعلٰی ہے قدسیوں سے بھی یہ آسماں مقام    ( ١٩٢٧ء، شاد، ظہور رحمت، ٧ ) ٢ - (درجے، مرتبے یا حیثیت وغیرہ میں) برتر، بالاتر؛ باوقعت۔ "نبی کا درجہ سب سے ارفع تھا۔"    ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٨٢ ) ٣ - پاک، بری، منزہ (سے کے ساتھ)۔ "میں تو جناب میر صاحب کی شان کو اس سے بہت ارفع سمجھتا ہوں۔"    ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ١٣٦ ) ٤ - ستھرا، سلیقے کا، اچھی قسم کا۔ "ہندوستان میں ڈرامہ نویسی کا مذاق کس قدر اعلٰی اور ارفع تھا۔"    ( ١٩٠٨ء، مضامین پریم چند، ١٨٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم تفضیل ہے اردو میں ١٨١٠ء کو میر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - (درجے، مرتبے یا حیثیت وغیرہ میں) برتر، بالاتر؛ باوقعت۔ "نبی کا درجہ سب سے ارفع تھا۔"    ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٨٢ ) ٣ - پاک، بری، منزہ (سے کے ساتھ)۔ "میں تو جناب میر صاحب کی شان کو اس سے بہت ارفع سمجھتا ہوں۔"    ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ١٣٦ ) ٤ - ستھرا، سلیقے کا، اچھی قسم کا۔ "ہندوستان میں ڈرامہ نویسی کا مذاق کس قدر اعلٰی اور ارفع تھا۔"    ( ١٩٠٨ء، مضامین پریم چند، ١٨٨ )

اصل لفظ: رافِع