ارمان

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - آرزو، تمنا، خواہش۔  کس جلوے کا یہ دھیان ہے کس نور کا ارمان ہے      ( ١٩٢٨ء، سلیم، افکار سلیم، ٥٧ ) ٢ - چاو، لاڈ، پیار۔ "لوگوں سے اولاد کی ایک بڑی ظالمانہ حق تلفی یہ ہوتی ہے کہ مارے ارمان کے چھوٹی سی عمر میں ان کی شادی کر دیتے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٨٧:٢ ) ٣ - (محرومی وغیرہ پر) افسوس، تاسف۔ "سسرال کو چھوڑنا پڑا، میکے سے رشتہ جوڑنا پڑا . رنگ زرد زرد، کلیجے میں درد . خیال کہیں دھیان کہیں، اپنے دالان میں کھڑی، کسی ارمان میں کھڑی۔"      ( ١٩٠١ء، راقم، عقد ثریا، ٤ )

اشتقاق

ترکی زبان سے اسم جامد ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فارسی سے اردو میں آیا۔ اردو میں ١٨٧١ء کو "آخرگشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - چاو، لاڈ، پیار۔ "لوگوں سے اولاد کی ایک بڑی ظالمانہ حق تلفی یہ ہوتی ہے کہ مارے ارمان کے چھوٹی سی عمر میں ان کی شادی کر دیتے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٨٧:٢ ) ٣ - (محرومی وغیرہ پر) افسوس، تاسف۔ "سسرال کو چھوڑنا پڑا، میکے سے رشتہ جوڑنا پڑا . رنگ زرد زرد، کلیجے میں درد . خیال کہیں دھیان کہیں، اپنے دالان میں کھڑی، کسی ارمان میں کھڑی۔"      ( ١٩٠١ء، راقم، عقد ثریا، ٤ )

جنس: مذکر