ازل

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - آغاز آفرینش، ابتدائے زمانہ۔  اگر عاشق سے نفرت تھی تو یہ علت ہی کیوں پالی پسند آیا تمھیں ناحق ازل میں خوبرو ہونا      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٢٣ ) ٢ - مدت جس کی ابتدا نہ ہو۔  علم کو سمجھوں ازل سے تو ازل سے ہے خدا پھر یہ مابعد خدا قبل ملک چیز ہے کیا      ( ١٩٧٦ء، مراثی نسیم، ٩٠:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں ١٦١١ء کو قلی قطب شاہ کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: ازل
جنس: مذکر