ازہاق

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - مٹانے کا عمل، باطل قرار دینا۔ "احقاق حق اور ازہاق باطل کے لیے . ایک اور دل نشین شکل پیدا کر دی۔"      ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٣٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٨٥٤ء میں ذوق کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مٹانے کا عمل، باطل قرار دینا۔ "احقاق حق اور ازہاق باطل کے لیے . ایک اور دل نشین شکل پیدا کر دی۔"      ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٣٥ )

اصل لفظ: زہق
جنس: مذکر