استبشار

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - بشارت، خوش خبری۔ "بدبختون کے چہرے کا سیاہ ہونا نیک بختون میں استبشار کے مقابلے میں ہے جو اللہ کے کلام میں مذکور ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، فصوص الحکم (ترجمہ)، ٨٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٨٨٨ء کو "فصوص الحکم" کے ترجمے میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بشارت، خوش خبری۔ "بدبختون کے چہرے کا سیاہ ہونا نیک بختون میں استبشار کے مقابلے میں ہے جو اللہ کے کلام میں مذکور ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، فصوص الحکم (ترجمہ)، ٨٧ )

اصل لفظ: بشر
جنس: مذکر