استتار

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - پوشیدگی، پردہ، خفا یا اخفا، چھپنا یا چھپانا، اظہار و اشتہار کی ضد۔ "تم اپنی زبان پر نہ لاؤ، اگر کوئی اور کہے مانع نہ آؤ نہ اشتہار نہ استتار۔"      ( ١٨٦٣ء، خطوط غالب، ٨٤ ) ٢ - [ تصوف ]  خفائے ذات۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 33)

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر ہے۔ ١٨٦٣ء کو "خطوط غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پوشیدگی، پردہ، خفا یا اخفا، چھپنا یا چھپانا، اظہار و اشتہار کی ضد۔ "تم اپنی زبان پر نہ لاؤ، اگر کوئی اور کہے مانع نہ آؤ نہ اشتہار نہ استتار۔"      ( ١٨٦٣ء، خطوط غالب، ٨٤ )

اصل لفظ: ستر
جنس: مذکر