استحفاظ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - حفاظت، تحفظ، محفوظ رکھنا، سینتنا، سنبھال کر رکھنا۔ "کیا ہماری دنیوی تعلیم (انگریزی تعلیم) میں عقائد اسلام کے استحفاظ کا کوئی بندوبست ہے?"      ( ١٩٥٣ء، حیات شبلی، ٥٦٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٨٦١ء کو "مبادی الحکمہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حفاظت، تحفظ، محفوظ رکھنا، سینتنا، سنبھال کر رکھنا۔ "کیا ہماری دنیوی تعلیم (انگریزی تعلیم) میں عقائد اسلام کے استحفاظ کا کوئی بندوبست ہے?"      ( ١٩٥٣ء، حیات شبلی، ٥٦٤ )

اصل لفظ: حفظ
جنس: مذکر