استحقار
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - حقارت، تحقیر یا ہیٹا سمجھنا۔ "آج کے دن تمام مہذب دنیا میں استحقار و استہزا کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔" ( ١٩١٠ء، معرکۂ مذہب و سائنس، ٢٣٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٩١٠ء کو معرکۂ "مذہب و سائنس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - حقارت، تحقیر یا ہیٹا سمجھنا۔ "آج کے دن تمام مہذب دنیا میں استحقار و استہزا کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔" ( ١٩١٠ء، معرکۂ مذہب و سائنس، ٢٣٨ )
اصل لفظ: حقر
جنس: مذکر