استحکام

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - پختگی، مضبوطی، استواری، "وہ (حضرت عیسٰی) اپنی تعلیم و شریعت کے استحکام سے پہلے اس دنیا سے اٹھ گئے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٣٧:٣ ) ٢ - پامردی، ہمت۔ "مجھ میں اتنا استحکام نہیں ہے، میں بھائی صاحب کو ناراض کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔"      ( ١٩١٦ء، بازار حسن، ٢٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٧٩٢ء کو "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پختگی، مضبوطی، استواری، "وہ (حضرت عیسٰی) اپنی تعلیم و شریعت کے استحکام سے پہلے اس دنیا سے اٹھ گئے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٣٧:٣ ) ٢ - پامردی، ہمت۔ "مجھ میں اتنا استحکام نہیں ہے، میں بھائی صاحب کو ناراض کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔"      ( ١٩١٦ء، بازار حسن، ٢٤٨ )

اصل لفظ: حکم
جنس: مذکر