استدراج

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (لفظاً) درجہ بدرجہ ہونے کی کیفیت یا عمل، (مراداً) تدریجی ترقی، ارتقا  طے کیے ہیں میں نے استدراج کے سب مرحلے چھوڑ کر جسم اب میں جان ارتقا ہو جاؤں گا      ( ١٩١٧ء، بہارستان، ظفر علی خاں، ٥٥٤ ) ٢ - شیطانی طاقت سے مافوق العادت کام، شعبدہ بازی، جادوگری۔ "مکر و استدراج یعنی شعبدہ بازی میں مہارت رکھتا تھا۔"      ( ١٩٥١ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، ١٩٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٨٨ء کو "ہدایات ہندی (ق)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - شیطانی طاقت سے مافوق العادت کام، شعبدہ بازی، جادوگری۔ "مکر و استدراج یعنی شعبدہ بازی میں مہارت رکھتا تھا۔"      ( ١٩٥١ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، ١٩٠ )

اصل لفظ: درج
جنس: مذکر