استراحت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آرام، آسائش، آرام کرنا، لیٹنا۔ "طلوع آفتاب سے قبل اس کے طائر روح نے آشیانۂ استراحت کی طرف پرواز کی۔"    ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ١٨٨:٤ ) ٢ - سکون و آرام کے ساتھ قیام، ایک حال پر ٹھہرا رہنا، مستقل ہونا۔ "کیا ہوا گر چند روز یہیں استراحت کرے تو، کہ تیری خدمت سے استفادہ اٹھاؤں۔"    ( ١٨٠١ء، گلستانہندی، ١٧٩ ) ٣ - خواب، نیند، آرام سے سونا۔ "مرغ کی اذان نے ان کو بستر استراحت سے بیدار کیا۔"      ( ١٩٢٠ء، بنت الوقت، ٥٧ ) ٤ - [ فقہ ]  دو سجدوں کے درمیان قعود (بیٹھک)، جلسہ استراحت۔ "محدثین اسی جلسے کو استراحت کہتے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٣٦:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال المعتل اجوف واوی سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٦٦٥ء کو "پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آرام، آسائش، آرام کرنا، لیٹنا۔ "طلوع آفتاب سے قبل اس کے طائر روح نے آشیانۂ استراحت کی طرف پرواز کی۔"    ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ١٨٨:٤ ) ٢ - سکون و آرام کے ساتھ قیام، ایک حال پر ٹھہرا رہنا، مستقل ہونا۔ "کیا ہوا گر چند روز یہیں استراحت کرے تو، کہ تیری خدمت سے استفادہ اٹھاؤں۔"    ( ١٨٠١ء، گلستانہندی، ١٧٩ ) ٣ - خواب، نیند، آرام سے سونا۔ "مرغ کی اذان نے ان کو بستر استراحت سے بیدار کیا۔"      ( ١٩٢٠ء، بنت الوقت، ٥٧ ) ٤ - [ فقہ ]  دو سجدوں کے درمیان قعود (بیٹھک)، جلسہ استراحت۔ "محدثین اسی جلسے کو استراحت کہتے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٣٦:١ )

اصل لفظ: روح
جنس: مؤنث