استرہ
معنی
١ - ایک تیز دھار کا اوزار جس سے بال مونڈتے ہیں۔ استرہ منہ پہ جو پھرنے نہیں دیتا ہے بجا محو دیندار سے کیونکر خط قرآں ہوتا ( ١٨١٦ء، دیوان ناسخ، ١٩:١ ) ٢ - چھری، چھرا، خنجر۔ (کشف اللغات؛ منتخب اللغات) "بچوں کے سرہانے استرے رکھتے تھے کہ ان سے جنات بھاگ جاتے ہیں۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٤٩٥:٣ ) ٣ - پاچھنا یا پچھنا، چوڑے منہ کا نہرنا جس سے پچھنے لگاتے ہیں۔ "اگر کوئی ان میں کاکاٹ لیتا ہے تو استرہ سے پچھنے دے کر خون نکالا کرتے ہیں۔" ( ١٨٧٣ء، تریاق مسموم، ١٢ )
اشتقاق
ہندی زبان سے اسم جامد ہے، من و عن اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں ١٤٣٥ء کو "کدم راو پدم راو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - چھری، چھرا، خنجر۔ (کشف اللغات؛ منتخب اللغات) "بچوں کے سرہانے استرے رکھتے تھے کہ ان سے جنات بھاگ جاتے ہیں۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٤٩٥:٣ ) ٣ - پاچھنا یا پچھنا، چوڑے منہ کا نہرنا جس سے پچھنے لگاتے ہیں۔ "اگر کوئی ان میں کاکاٹ لیتا ہے تو استرہ سے پچھنے دے کر خون نکالا کرتے ہیں۔" ( ١٨٧٣ء، تریاق مسموم، ١٢ )