استری

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - لوہے یا پیتل کا آلہ جسے گرم کر کے کپڑے کی چرسیں مٹانے اور سیون بٹھانے یا شکن ڈالنے کے لیے کپڑے پر دبا کر پھیرتے ہیں۔ "دھلوانے کی ضرورت نہ استری کی حاجت۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٧٥ ) ٢ - [ کاغذ سازی ]  کاغذ کو چکنا کرنے کا وزنی بیلن، مہرہ (اصطلاحات پیشہ وراں، 186:4)

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'ستر' سے ماخوذ ہے اردو میں ١٩٠٨ء کو "صبح زندگی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لوہے یا پیتل کا آلہ جسے گرم کر کے کپڑے کی چرسیں مٹانے اور سیون بٹھانے یا شکن ڈالنے کے لیے کپڑے پر دبا کر پھیرتے ہیں۔ "دھلوانے کی ضرورت نہ استری کی حاجت۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٧٥ )

جنس: مؤنث