استعمار

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (لفظاً) کس یکو کسی مقام میں بسانا؛ ہجرت کر کے کسی جگہ جانا اور اسے وطن بنانا، (مراداً) دوسرے ملک کو نو آبادی بنا کر اس سے تمنع حاصل کرنا۔ (انگریزی) کالونائزیشن (Colonisation) "تہذیب مغربی کی بے ہودگیوں اور مغرب استعمال کے خلاف ابھی ردعمل جاری ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، خطوط محمد علی، ٢٤٢ ) ٢ - تعمیر، تخریب کی ضد۔

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٩٣٠ء کو "خطوط محمد علی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (لفظاً) کس یکو کسی مقام میں بسانا؛ ہجرت کر کے کسی جگہ جانا اور اسے وطن بنانا، (مراداً) دوسرے ملک کو نو آبادی بنا کر اس سے تمنع حاصل کرنا۔ (انگریزی) کالونائزیشن (Colonisation) "تہذیب مغربی کی بے ہودگیوں اور مغرب استعمال کے خلاف ابھی ردعمل جاری ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، خطوط محمد علی، ٢٤٢ )

اصل لفظ: عمر
جنس: مذکر