استعمال

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عمل میں لانا، برتنا، کلام میں لانا۔ "وہ چیزیں جن کو مرد بناتے تھے اور جو مرد و عورت دونوں کے استعمال میں آتی تھیں ان کا نام رکھنے میں مرد نے ابتدا کی ہو گی۔"      ( ١٩١٦ء، گہوارۂ تمدن، ١٦٠ ) ٢ - لفظ یا فقرے کا کسی خاص معنی میں بولا جانا۔ "محاوروں کے استعمال کا شوق مولوی صاحب کو بہت زیادہ تھا۔"      ( ١٩٤٤ء، ایک نواب صاحب کی ڈائری، ٦١ ) ٤ - چاول کی قسم۔ "دوپہر میں سوا سیر پرانے استعمال کا پلاؤ۔"      ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٦٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے اردو میں ١٧٤٦ء کو "قصۂ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عمل میں لانا، برتنا، کلام میں لانا۔ "وہ چیزیں جن کو مرد بناتے تھے اور جو مرد و عورت دونوں کے استعمال میں آتی تھیں ان کا نام رکھنے میں مرد نے ابتدا کی ہو گی۔"      ( ١٩١٦ء، گہوارۂ تمدن، ١٦٠ ) ٢ - لفظ یا فقرے کا کسی خاص معنی میں بولا جانا۔ "محاوروں کے استعمال کا شوق مولوی صاحب کو بہت زیادہ تھا۔"      ( ١٩٤٤ء، ایک نواب صاحب کی ڈائری، ٦١ ) ٤ - چاول کی قسم۔ "دوپہر میں سوا سیر پرانے استعمال کا پلاؤ۔"      ( ١٩٥٤ء، اپنی موج میں، ٦٧ )

اصل لفظ: عمل
جنس: مذکر