استغراق

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کسی فکر خیال یا کام میں غرق ہو کر سب کچھ بھول جانے کی کیفیت، گہری دلچسپی، محویت۔  جب سے دیکھے ہیں یار کے احداق ہو گیا ہوں میں وقف استغراق      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٦:٢،٩ ) ٢ - خدا کی صفات و اسما کے ذکر و فکر میں بے خودی کا عالم، مراقبہ۔ "تصوف کے مقامات میں سے اکثر مقامات ایسے ہیں جن سے جذبات کو تعلق ہے، مثلاً رضا، فنا، محویت، وحدت، استغراق۔"      ( ١٩١٤ء، شعرالعجم، ٥، ١٣٦ ) ٤ - کسی جنس یا نوع کے تمام افراد کا احاطہ۔ "الحمد، میں الف لام استغراق کا نہیں بلکہ تعریف جنس کا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٩:٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - خدا کی صفات و اسما کے ذکر و فکر میں بے خودی کا عالم، مراقبہ۔ "تصوف کے مقامات میں سے اکثر مقامات ایسے ہیں جن سے جذبات کو تعلق ہے، مثلاً رضا، فنا، محویت، وحدت، استغراق۔"      ( ١٩١٤ء، شعرالعجم، ٥، ١٣٦ ) ٤ - کسی جنس یا نوع کے تمام افراد کا احاطہ۔ "الحمد، میں الف لام استغراق کا نہیں بلکہ تعریف جنس کا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٩:٢٣ )

اصل لفظ: غرق
جنس: مذکر