استغفار

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - طلب مغفرت، توجہ، گناہوں کی معافی کے لیے دعا کرنا، بخشش طلب کرنا۔ "اپنی حرکت سے توبہ اور اپنے افعال سے استغفار کرنا۔"    ( ١٨٧٧ء، توب١ النصوح، ٢٦٤ ) ٢ - خدا کی پناہ  غضب ہے چار نمازوں کا ترک، استغفار کہ جیسے خاص حرم میں حرام ستربار    ( ١٩٢٦ء، مراثی نسیم، ١١١:٣ ) ٣ - دعاے استغفار (استغفراللہ ربی وغیرہ) "وہ خیال . استغفار پڑھ کر دور کیا۔"      ( ١٨٠٣ء، گنج خوبی، ٥٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٧٨ء کو غواصی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طلب مغفرت، توجہ، گناہوں کی معافی کے لیے دعا کرنا، بخشش طلب کرنا۔ "اپنی حرکت سے توبہ اور اپنے افعال سے استغفار کرنا۔"    ( ١٨٧٧ء، توب١ النصوح، ٢٦٤ ) ٣ - دعاے استغفار (استغفراللہ ربی وغیرہ) "وہ خیال . استغفار پڑھ کر دور کیا۔"      ( ١٨٠٣ء، گنج خوبی، ٥٦ )

اصل لفظ: غفر
جنس: مذکر