استفہام

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - سوال، استفسار، دریافت کرنا، پوچھنا۔  آج ہر طبع یہ حاضر ہے کہ صد حسن جواب ایک پوشاک ہے زیب تن ہر استفہام      ( ١٩١٩ء، رعب، کلیات، ٢٧١ ) ٢ - [ اوقاف ]  سوالیہ علامت جو استفہامیہ فقروں کے بعد لگائی جاتی ہے، جیسے : کیا تم نے کھانا کھا لیا? ٣ - [ نحو ]  وہ فقرہ جس میں کوئی سوال ہو، سوالیہ فقرہ۔ "اس کو جملہ خبریہ کے ذریعے سے نہیں بلکہ استفہام کے طریقے سے ادا کرتا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، شعر العجم، ٣٢٩:١١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - [ نحو ]  وہ فقرہ جس میں کوئی سوال ہو، سوالیہ فقرہ۔ "اس کو جملہ خبریہ کے ذریعے سے نہیں بلکہ استفہام کے طریقے سے ادا کرتا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، شعر العجم، ٣٢٩:١١ )

اصل لفظ: فہم
جنس: مذکر