استلزام
معنی
١ - لزوم، لازم سمجھنا یا ہونا۔ "مطلق مستثنٰی ہے مقید سے، پس لزوم استلزام تو دونوں جانب سے ہے، لیکن احتیاج صرف مقید کی جانب سے ہے۔" ( ١٩٢٤ء، تصوف اسلام، ١٥٨ ) ٢ - التزام، لازم بنانا، ضروری کر لینا۔ "التزام جود و عطا کا مجموعہ حمد کہلاتا ہے۔" ( ١٩١٥ء، رحمۃ اللعالمین، ١٤:٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے، ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٧١ء کو "مبادی الحکمہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لزوم، لازم سمجھنا یا ہونا۔ "مطلق مستثنٰی ہے مقید سے، پس لزوم استلزام تو دونوں جانب سے ہے، لیکن احتیاج صرف مقید کی جانب سے ہے۔" ( ١٩٢٤ء، تصوف اسلام، ١٥٨ ) ٢ - التزام، لازم بنانا، ضروری کر لینا۔ "التزام جود و عطا کا مجموعہ حمد کہلاتا ہے۔" ( ١٩١٥ء، رحمۃ اللعالمین، ١٤:٣ )