استمداد

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - طلب مدد، (کسی سے) نصرت و اعانت کی درخواست، مدد چاہنا۔ "منشی احتشام علی . گورنمنٹ سے استمداد کے لیے شملہ گئے ہیں۔" ٢ - مدد، اعانت۔ "اس وباء عظیم کو دور کرنے کے لیے استمداد چاہی۔"      ( ١٩٣٢ء، اخوان الشیاطین، ٢٧٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب استفعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٣٨ء کو "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طلب مدد، (کسی سے) نصرت و اعانت کی درخواست، مدد چاہنا۔ "منشی احتشام علی . گورنمنٹ سے استمداد کے لیے شملہ گئے ہیں۔" ٢ - مدد، اعانت۔ "اس وباء عظیم کو دور کرنے کے لیے استمداد چاہی۔"      ( ١٩٣٢ء، اخوان الشیاطین، ٢٧٢ )

اصل لفظ: مدد
جنس: مذکر