استواری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - استوار کا اسم کیفیت۔       وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو     رجوع کریں:   ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٩٩ )

اشتقاق

فارسی زبان کے اسم صفت 'استوار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں قلی قطب شاہ کے دیوان میں ١٦١١ء کو مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث