اسد
معنی
١ - شیر بر میں اسد، نہنگ ہوے بحر میں ہلاک سینہ زمیں کا ہو گیا دہشت سے چاک چاک ( ١٩٢٧ء، شاد، مراثی، ١٢٧:٢ ) ٢ - آسمان کے بارہ برجوں میں سے پانچویں برج کا نام جس کی شکل شیر کی سی ہے (اکثر برج کے ساتھ مستعمل)۔ "خدا نے بارہ برج بنائے - سرطان، اسد، سنبلہ۔" ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥٤٧:٣٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں عربی سے من و عن داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پلے ١٦٧٨ء کو غواصی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - آسمان کے بارہ برجوں میں سے پانچویں برج کا نام جس کی شکل شیر کی سی ہے (اکثر برج کے ساتھ مستعمل)۔ "خدا نے بارہ برج بنائے - سرطان، اسد، سنبلہ۔" ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥٤٧:٣٣ )